زکوٰۃ کب واجب ہوتی ہے؟
جب کوئی مسلمان، عاقل و بالغ شخص نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ مال کا مالک ہو اور اس مال پر ایک قمری سال گزر جائے تو زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے۔
اپنی زکوٰۃ آسانی سے حساب کریں — تازہ سونے چاندی کے نرخوں کے ساتھ
آخری اپڈیٹ: 17 Oct 2026 · ماخذ: آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن
جو قرض آپ پر واجب الادا ہے وہ قابلِ زکوٰۃ رقم سے منہا ہوگا۔
احتیاط اسی میں ہے کہ جو نصاب کم ہو اسے معیار بنایا جائے تاکہ غریبوں کا حق ضائع نہ ہو۔ عام طور پر چاندی کا نصاب کم ہوتا ہے۔
جب کوئی مسلمان، عاقل و بالغ شخص نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ مال کا مالک ہو اور اس مال پر ایک قمری سال گزر جائے تو زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے۔
نصاب کی دو قسمیں ہیں: 7.5 تولہ سونا (87.48 گرام) یا 52.5 تولہ چاندی (612.36 گرام)، یا ان کے برابر نقدی، بینک بیلنس یا کاروباری مال۔
قابلِ زکوٰۃ مال کا چالیسواں حصہ یعنی 2.5 فیصد زکوٰۃ واجب ہے۔
سونا، چاندی، نقد رقم، بینک بیلنس، کاروباری مال اور وصول ہونے والی رقم پر زکوٰۃ ہے۔ ذاتی استعمال کی چیزیں جیسے رہائشی مکان، گاڑی اور کپڑوں پر زکوٰۃ نہیں۔
جی ہاں۔ جو قرض آپ پر واجب الادا ہے وہ آپ کے قابلِ زکوٰۃ اثاثوں سے منہا کیا جائے گا، باقی رقم پر زکوٰۃ ہوگی۔
علماء کی ایک بڑی جماعت کے نزدیک احتیاط اسی میں ہے کہ جو نصاب قیمت میں کم ہو اسے معیار بنایا جائے، کیونکہ اس میں غریبوں کا فائدہ ہے۔ آج کل عام طور پر چاندی کا نصاب کم ہوتا ہے۔
جی ہاں، سونے چاندی کے زیورات — چاہے روز پہنے جاتے ہوں — ان کی موجودہ قیمت پر زکوٰۃ واجب ہے (جمہور علماء کے نزدیک)۔
نصاب پر ایک قمری سال مکمل ہوتے ہی زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے اور جلد ادا کر دینی چاہیے۔ رمضان میں ادا کرنے کا ثواب زیادہ ہے مگر انتظار واجب نہیں۔
بینک میں موجود اصل رقم پر تو زکوٰۃ ہے۔ سودی منافع حرام ہے — اسے ثواب کی نیت کے بغیر غریبوں میں دے دینا چاہیے۔
نہیں۔ یہ کیلکولیٹر حساب میں آسانی کے لیے ہے۔ خاص صورتوں میں اپنے علاقے کے مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔
یہ کیلکولیٹر رہنمائی کے لیے ہے، حتمی فتویٰ نہیں۔ پیچیدہ صورتوں میں مستند عالم سے رجوع کریں۔